دھونی کی بالی وڈ میں انٹری؟ دھواں دار ٹیزر نے مداحوں کا دل جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
سوشل میڈیا پر جاری کئے گئے ایک ٹیزر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے، اس ٹیزر میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ایم ایس دھونی ایکشن میں نظر آرہے ہیں۔
یہ ٹیزر بالی ووڈ اداکار آر مادھون کی جانب سے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر شیئر کیا گیا ہے۔
سابق کپتان دھونی اور اداکار مادھون اس ویڈیو میں سیاہ رنگ کی وردی پر بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے ایکشن کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جیسے دونوں کسی مشن پر نکلے ہوں۔
A post common by R.
دھونی اور مادھون نے بھاری اسلحہ بھی اٹھا رکھا ہے اور وہ کسی گینگ کا پیچھا کرتے ہوئے فائرنگ کر رہے ہیں جس سے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ کسی فلم کا ٹیزر ہے۔
اس پوسٹ کے کیپش میں مادھون نے لکھا ’ایک مشن اور 2 فائٹرز‘۔ تاہم آر مادھون نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کوئی ویب سیریز ہے، فلم ہے یا کوئی اشتہار۔
اس ٹیزر کے منظر عام پر آنے کے بعد دھونی کے مداح چہ مگوئیاں کررہے ہیں کہ وہ اب فلموں کے میدان میں بھی قدم رکھ چکے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔