چیمپئنز ٹرافی: ویرات کوہلی پاکستان کے خلاف میچ میں کونسا ریکارڈ بنا سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ 23 فروری بروز اتوار کو کھیلا جائے گا۔
انتہائی اہمیت کے حامل میچ میں بھارت کے اسٹار بلے باز ویرات کوہلی بھی ایک روزہ فامیٹ میں 14 ہزار رنز اسکور مکمل کر کے یہ کارنامہ انجام دینے والے تیسرے کھلاڑی بن سکتے ہیں۔
واضح رہے دبئی میں بنگلادیش کے خلاف کھیلے جانے والے چیمپئنز ٹرافی کے دوسرے میچ میں ویرات کوہلی کو یہ سنگِ میل عبور کرنےکے لیے 15 رنز درکار تھے جب رشاد حسین کی گیند پر سومیا سرکار کو 22 رنز پر کیچ دے بیٹھے۔
اسٹار بیٹر اگر 14 ہزار رنز مکمل کر جاتے تو یہ کارنامہ انجام دینے والے تیز ترین بلے باز بھی بن جاتے۔
واضح رہے اب صرف دو کھلاڑی یہ کارنامہ انجام دے سکے ہیں جن میں سچن ٹینڈولکر (350 میچز) اور سری لنکا کے کمار سنگاکارا (378 میچز) شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔