چوہدری شجاعت کی سیاسی رابطہ کمیٹی نے قومی مفاہمت کیلئے سفارشات تیار کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
اسلام آباد:
چوہدری شجاعت حسین کی قائم کردہ سیاسی رابطہ کمیٹی نے قومی مفاہمت کے لیے سفارشات تیار کرلیں۔
پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے سیاسی درجہ حرارت میں کمی لانے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو قومی ایجنڈا پر متفق بنانے کے لیے قائم کی گئی سیاسی رابطہ کمیٹی کا پہلا باقاعدہ اجلاس اتوار کے روز مسلم لیگ ہاوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے وائس چئیرمین غلام مصطفیٰ ملک نے کی۔
اجلاس میں اراکین ڈاکٹر محمد امجد، محمد رحیم اعوان، انتخاب خان چمکنی، طارق حسن اور رضوان صادق خان شریک ہوئے، جب کہ اجلاس کے حوالے سے کمیٹی کے چئیرمین میر نصیر خان مینگل سے بھی مشاورت کی گئی۔
پارٹی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سیاسی رابطہ کمیٹی نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں سے مشاورت کے لیے ایجنڈا تیار کر لیا ہے۔
مصطفی ملک نے کہا کہ سیاسی رابطہ کمیٹی نے قومی مفاہمت کے لیے سفارشات تیار کر لی ہیں، کمیٹی چوہدری شجاعت حسین کی اجازت کے بعد اپوزیش جماعتوں، سول سوسائٹی، میڈیا سے ملاقاتوں کا آغاز کرے گی۔
مصطفیٰ ملک نے کہا کہ مسلم لیگ نے اتحادی جماعتوں کو مزید وسعت دینے کی تجویز دی ہے، ہم خیال سیاسی جماعتوں اور بزرگ سیاستدانوں سے بھی رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملکی مسائل اور درپیش چیلجز سے نمٹنے کے لیے اپوزیش جماعتوں سے بامقصد بات چیت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیاسی رابطہ کمیٹی نے چوہدری شجاعت کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔