ہماری درسی کتابوں میں تاریخ مسخ کر کے افغان جنگ کو جہاد کا نام دیا گیا ہے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
سیالکوٹ میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری اصلی تاریخ کو 80 کی دہائی میں مسخ کیا گیا، ہم نے تاریخ بدلی، ہیرو بدلے، ہمیں اپنے دین پر فخر ہونا چاہئے، سلیبس میں ایسی چیزیں تھیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جس ملک کا دانشور طبقہ بد دیانت ہو اس کا مستقبل کیا ہوگا، تاریخ کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے، درسی کتابوں میں تاریخ مسخ کی گئی ہے، حلف اٹھایا جاتا ہے لیکن اس کا پاس نہیں رکھا جاتا۔ سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ اشتہار لگانا ڈاکٹروں کے پیشے کو زیب نہیں دیتے، سارے شہر میں ڈاکٹروں کے اشتہار لگے ہیں، کسی دور میں پنجابی فلموں کے ایسے اشتہار لگے ہوتے تھے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ڈاکٹر کے ہاتھ سے لوگوں کو شفا خود ایک اشتہار ہے، جس کے ہاتھ میں شفا ہو، اللہ نے یہ ہنر دیا ہو تو مریض خود آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کا ایک اشتہار پڑھا تو شرم آئی، یہ اشتہارات کے ذریعے پروموشن ڈاکٹرز کے شایان شان نہیں، اشتہاروں کی ضرورت سیاست دانوں کو ہوتی ہے۔ وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ سیالکوٹ میں صحت کی بہترسہولیات کی فراہمی ترجیح ہے، حلف اٹھایا جاتا ہے لیکن اس کا پاس نہیں رکھا جاتا، آج سیالکوٹ میں کئی ہسپتال بن گئے ہیں، ان ہسپتال کے باوجود سہولیات کم پڑ جاتی ہیں، میرے والد نے سیالکوٹ میں ہسپتال تعمیر کروایا، اس شہر کی ضرورت کے مطابق صحت کی سہولیات کم ہیں، ایک زمانے میں سیالکوٹ میں صرف چار، پانچ ڈاکٹرز تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ شہر میں ایک اور جدید ہسپتال کے لئے اقدامات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہر کے کاروباری طبقے نے خدمت کے لئے بہت کام کیا ہے، تاریخ کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہماری اصلی تاریخ کو 80 کی دہائی میں مسخ کیا گیا، ہم نے افغان جنگ کو جہاد کا نام دیا جو جہاد نہیں تھا، آج 6 لاکھ افغان یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، ہم نے تاریخ بدلی، ہیرو بدلے، ہماری قوم کی حقیقی تشخص اور شناخت کھو گئی ہے۔ لیگی رہنما نے مزید کہا کہ میرے اپنے خیالات ہیں شائد کوئی اتفاق نہ کرے، ہمیں اپنے دین پر فخر ہونا چاہئے، سلیبس میں ایسی چیزیں تھیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، وزارتوں کی تقسیم میں وزارت تعلیم کا آخری نمبر ہوتا ہے۔ واضح رہے خواجہ آصف افغان فاتحین کے متعلق بھی تفصیلی بیان جاری کر چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیالکوٹ میں خواجہ آصف نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم