عبدالستار ایدھی کا آج 97 واں یوم پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک: شفقت، محبت اوررحم دلی کے پیکر عبدالستار ایدھی کا آج یوم پیدائش ہے۔
انسانیت کے عظیم خادم عبدالستار ایدھی کا آج 97 واں یوم پیدائش ہے، عبدالستار ایدھی نے بلا تفریق انسانیت کی بے لوث خدمت کی، اپنی پوری زندگی فلاحی کاموں کے لیے وقف کئے رکھی، دہائیوں تک انسانیت کی بلاتفریق خدمت کرنے والے ایدھی ہر پاکستانی کے دل میں آج بھی زندہ ہیں۔
عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928ء کو بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے تھے، قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کرنے والے عبدالستار ایدھی نے 1951ء میں ایک چھوٹے کمرے سے دکھی انسانیت کی خدمت کا آغاز کیا تھا۔
سات اکتوبر حملوں میں اغوا ہونے والی مقتول ماں اور بچوں کی اسرائیل میں تدفین
عبدالستار ایدھی نے ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی تو جیسے لاوارث بچوں اور بے سہارا خواتین اور بزرگوں کو سہارا مل گیا، ایدھی کی ایمبولنس سروس نے بڑے سانحات سے لے کر چھوٹے حادثات تک میں انسانی خدمت کی وہ مثالیں پیش کیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
ہسپتال اور ایمبولینس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچکی سینٹر، پاگل خانے، معذوروں کے لئے گھر، بلڈ بینک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور سکول کھولے۔
فلسطینیوں کے جرائم کی تحقیقات " تیزی کے ساتھ" جاری ہیں, آئی سی سی
1997ء کے گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس ہے، عبدالستار ایدھی کی اہلیہ ہر مشن میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں، عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے سماج کی خدمت کا جذبہ خود تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے آئندہ نسل تک منتقل کیا۔
عبد الستار ایدھی 8 جولائی 2016ء کو دنیا سے رخصت ہوئے تو ایدھی ولیج میں کھڑے لاوارث بچوں کی زبان پر بے ساختہ آیا کہ ہم ایک بار پھر یتیم ہو گئے۔
’’ بڑوں “ کی سمجھ کہاں گئی ؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: عبدالستار ایدھی ایدھی کا
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔