معاشی بہتری کا فائدہ عوام تک پہنچنا شروع ہو گیا، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معیشت کی بہتری، کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، عوام کو ارزاں نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میکرو اکنامک معاشی بہتری کا فائدہ عوام تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے، مجھے قوی امید ہے کہ افراط زر میں مزید کمی ہو گی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کنزیومر پرائس انڈیکس کے حوالے سے افراط زر میں مسلسل کمی پر اظہار اطمینان کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت اپنا ایک سال پورا کر رہی ہے، اس موقع پر یہ ایک انتہائی اچھی خبر ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ افراط زر فروری 2025ء میں 1.
انہوں نے کہا کہ جولائی 2024ء سے فروری 2025ء تک افراط زر کی اوسط 5.9 فیصد تک رہی جبکہ پچھلے مالی سال میں اسی عرصہ میں یہ اوسط 28 فیصد تھی، یہ ایک نمایاں کمی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی معاشی ٹیم کی شاندار کاوشوں کی بدولت معاشی اعشاریے ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں، معیشت میں مسلسل بہتری مستعد ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ معیشت کی بہتری، کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، عوام کو ارزاں نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے نے کہا کہ افراط زر
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔