کوڑوں کی سزا یا کچھ اور، رونالڈو کے ایران نہ جانے کی وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم کے ہمراہ ایران کا رخ نہ کرنے کی وجہ سامنے آگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق النصر کے اسٹار فٹبالر اے ایف سی چیمپئنز لیگ کے پری کوارٹر فائنل میچ کھیلنے کیلئے کرسٹیانو رونالڈو ٹیم کے ہمراہ تہران نہیں جاسکے، جس کی وجہ ایک کیس میں انہیں 99 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی معذور آرٹسٹ فاطمہ ہمامی نے اپنے پاؤں سے ایک پینٹنگ بنائی تھی جسے رونالڈو کو پیش کیا گیا تھا اور اس پینٹنگ پر انہوں نے خوشی سے معذور لڑکی کا ماتھا چومتے ہوئے پینٹنگ اپنے ہمراہ رکھ لی تھی۔
مزید پڑھیں: سال 2024 سب سے زیادہ پیسے کِس کھلاڑی نے کمائے؟ فہرست جاری، مداح حیران
ایرانی قوانین میں اس عمل کی سخت ممانعت ہے جس کے باعث اسٹار فٹبالر کو ایران میں 99 کوڑوں کی سزا ہوسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔