میکرو اکنامک استحکام سے متعلق اچھی پوزیشن میں ہیں، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
فائل فوٹو۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہم میکرو اکنامک استحکام سے متعلق اچھی پوزیشن میں ہیں، ملک میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری ہیں۔
اسلام آباد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ افتتاحی ملاقات ہوئی ہے۔ 6 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں جو موقع ملا ہے اسے دانش مندانہ استعمال کرنے کی ضرورت ہے، چاہتے ہیں آگے جا کر شمولیت کی بنیاد پر پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوسکے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی اور پالیسی لیول پر مذاکرات ہو رہے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت اگلے دو ہفتے جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے ایک اہم اور تنبیہی پیغام جاری کیا ہے جس میں اپنی نام پر رجسٹرڈ سمز کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اپنی شناخت پر جاری شدہ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر موجود سم کسی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہے۔
صارفین کی سہولت اور حفاظت کے لیے پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری یہ چیک کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں فعال ہیں،اس معلومات کیلئے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر کسی ڈیش (-) کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اگر شناختی کارڈ پر کوئی نامعلوم یا بلا ضرورت سم نظر آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محفوظ خریداری اور بائیو میٹرک کا احتیاطی استعمال
پی ٹی اے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی سم کی خریداری کے لیے ہمیشہ صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر کا ہی انتخاب کریں اور اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کی اجازت یا علم کے بغیر کوئی بھی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اس سے قبل بھی پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ مفت سم کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کروانے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔
ایسے دھوکے باز آپ کی بائیو میٹرک کا غلط استعمال کر کے آپ کی معلومات پر کوئی اور سم بھی جاری کروا سکتے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔