کراچی: سحری میں دودھ کی دکان پر ڈکیتی، 1 گاہک نے موبائل چھپا دیا، ویڈیو آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
کراچی کے علاقے لانڈھی نمبر 2 میں آج سحری سے قبل دودھ کی دکان پر ڈکیتی کی واردات کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی، مسلح ملزمان گاہکوں کو لوٹ کر فرار ہو گئے۔
سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دودھ کی دکان پر موٹر سائیکل سوار 3 مسلح ملزمان آئے، ملزمان نے اسلحہ دکھا کر سحری کا سامان لینے آئے گاہکوں کو لوٹ لیا۔
ملزمان گاہکوں کی جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے اور موبائل فون نکال کر لے گئے۔
سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزمان کے چہرے واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
ایک گاہک جس کی گود میں بچہ تھا اس نے ڈاکوؤں کو دیکھتے ہی چپکے سے اپنا موبائل فون دکان کے اندر ہاتھ ڈال کر انڈوں کے کریٹس کے درمیان چھپا دیا، جسے کیمرے کی آنکھ نے ریکارڈ کر لیا۔
پولیس نے ڈکیتی سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تاحال کسی نے ڈکیتی سے متعلق رپورٹ درج نہیں کروائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
کراچی، اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے اداکار منیب بٹ کو تفتیش کے بعد بے گناہ قرار دیتے ہوئے چالان میں ان کے خلاف الزامات برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد منیب بٹ کے وکیل نے عدالت سے ضمانت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں منیب بٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد چالان میں ان کے مؤکل کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا اب ضمانت کی درخواست برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں، اس لیے اسے واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نےمحمد متعال نامی شہری کو اغوا کر کے ان سے24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا تھا۔
تحقیقات کے دوران منیب بٹ پر یہ الزام سامنے آیا تھا کہ انہوں نے مرکزی ملزمان کو مری میں رہائش فراہم کرنے میں معاونت کی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفصیلی تفتیش اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ان کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا، جس کے باعث انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں نامزد ایک پولیس اہلکارغالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں، جن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو مبینہ طور پر اغوا کیا، ان سے کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان حاصل کیا اور بعد ازاں انہیںکورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔
عدالت نے وکیل کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت متعلقہ قانونی کارروائی کے لیے ملتوی کر دی۔