آئی ایم ایف کا توانائی شعبے کی اصلاحات میں پیش رفت پر اظہار اطمینان
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 7 ارب ڈالرز قرض پروگرام کے تحت جائزہ مذاکرات میں عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے توانائی شعبے کی اصلاحات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ۔
نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد اس وقت اسلام آباد میں موجود ہے، جہاں 7 ارب ڈالرز قرض پروگرام کے تحت جائزہ مذاکرات جاری ہیں۔
آئی ایم ایف وفد نے توانائی شعبے کی اصلاحات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور توانائی شعبے میں شروع کی گئیں اصلاحات مکمل کرنے پر زور دیا۔
عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کے حکام سے ملاقاتیں کیں جب کہ وزیراعظم کے مشیر محمد علی اور سیکریٹری پاور ڈویژن نے بھی وفد سے ملاقات کی۔
آئی ایم ایف وفد سے سیکرٹری پیٹرولیم، ایڈیشنل سیکریٹری پیٹرولیم، ڈی جی گیس کی ملاقات بھی ہوئی، وفد کو توانائی سیکٹر میں شروع کی جانے والی اصلاحات سے آگاہ کیا گیا۔
ملاقات کے دوران، آئی ایم ایف وفد کو پاور اورگیس سیکٹر سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی، وفد کو پاور اور گیس سیکٹرز کے حوالے سے اہداف پر عمل درآمد کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کو بجلی کمپنیوں کی نجکاری اور سرکلر ڈیٹ کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، وفد کو بجلی کمپنیوں کی نجکاری پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ کے دوران وفد کو بتایا گیا کہ پاکستان دسمبر 2024 تک آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف حاصل کرچکا ہے، پاورسیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کا حصول بہت زیادہ کنٹرول میں ہے۔
دسمبر 2024 تک پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 2 ہزار 384 ارب روپے رہا، جون 2024 میں پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 2 ہزار 393 ارب روپے تھا۔
پہلے مرحلے میں 3 سرکاری بجلی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کی جارہی ہے، پہلے مرحلے آئیسکو، فیسکو اور گیپگو کی نجکاری کی جائے گی جب کہ بجلی کمپنیوں کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیر کا تقررکیا جاچکا ہے۔
جولائی 2024 میں بجلی کا بنیادی ٹیرف 7 روپے 12 پیسے تک فی یونٹ بڑھایا جاچکا ہے، بجلی ٹیرف کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا بروقت اطلاق کیا جارہا ہے، رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ پربھی نیپرامیں سماعت ہوچکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عالمی مالیاتی توانائی شعبے ا ئی ایم ایف کی نجکاری پیش رفت وفد کو
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔