رمضان المبارک میں حکومت مہنگائی کو روکنے میں ناکام، ڈاکٹر روبینہ اختر
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
پی ٹی آئی ویمن ونگ جنوبی پنجاب کے صدر کا کہنا تھا کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، حالیہ واقعات میں مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے کا قتل اور بنوں کینٹ میں دہشت گردی شامل ہیں، جو انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ملتان کے حلقہ این اے 148 کی امیدوار و تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر روبینہ اختر نے کہا ہے کہ اشتہاری حکومت صرف تشہیری مہم چلارہی ہے، جبکہ مہنگائی بالکل کم نہیں ہوئی، رمضان المبارک میں قیمتیں کم ہونے کی بجائے آسمان پر پہنچ چکی ہیں، پھل اور دیگر اشیائے خوردونوش غریب کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں، سحر اور افطار کی ان مشکلات کو حکومت ماننے کو بالکل تیار نہیں ہے اور طوطے کی طرح مہنگائی کم ہو گئی ہے، سنگل اعشاریہ پر آگئی ہے کی رٹ لگا رکھی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم تو تب مانیں گے جب عوام کو سکھ کی روٹی نصیب ہوگی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے القریش سوسائٹی ون کے دورہ کے دوران خواتین کی کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر خواتین کی بڑی تعدا د موجود تھی۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، حالیہ واقعات میں مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے کا قتل اور بنوں کینٹ میں دہشت گردی شامل ہیں جو انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہیں، بنوں حملہ کو جس طرح ہماری سیکورٹی فورسزنے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناکام بنایا، اس پر پوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے، کارنر میٹنگ میں انہوں نے خواتین کے ساتھ مل کر بنوں حملے میں شہید ہونے والے معصوم لوگوں کے لئے دعائے مغفرت بھی کی اور حکومت سے اپیل کی کہ مہنگائی کو خاص طور پر رمضان المبار ک میں کم کیا جائے تاکہ لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔