data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیرمملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ہمیشہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو خوش کرنے کی کوشش کی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کی پالیسیز کی وجہ سے حکومت پاکستان کے اقدامات کو ڈی ریل کیا جا رہا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر عقیل ملک کا کہناتھاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پہلی بار پی ٹی آئی کے اندرونی حالات کے بارے میں کھل کر بات کی، علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پارٹی میں غلط فیصلے کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین شہدا کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے، وزیراعلیٰ اور ان کی پارٹی کے لوگ شہدا کے گھر بھی نہیں گئے، ہر چیز کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کی طرف سے اب 27 ستمبر کا چورن بیچا جارہا ہے، خیبرپختونخوا میں گورننس کا بھی ایشو ہے، خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کی حمایت کرنی چاہیے لیکن خیبرپختونخوا حکومت نے ہمیشہ صوبے میں دہشت گردی کیخلاف آپریشنز کی مخالفت کی۔

بیرسٹر عقیل کا کہنا تھاکہ خیبرپختونخوا کی عوام بھی اب صوبائی حکومت کے طرز عمل پر سوالات اٹھا رہی ہے، پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہمیشہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی وکالت کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کالعدم ٹی ٹی پی کو خوش کرنے کی کوشش کی  جو کام غلط ہوگا جو پالیسی غلط ہوگی اس کو روکا جائے، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، سی ایم کے پی اور ان کی پالیسیز کی وجہ سے حکومت پاکستان کے اقدامات کو ڈی ریل کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن