وزیراعظم شہباز نے کاٹن گروورز کو بچانے کے لئے ابتدا کر دی
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
سٹی42: وزیراعظم شہباز شریف نے کاٹن کی تیزی سے گرتی پیداوار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے کپاس کی فصل کو سہارا دینے کے لیے 15 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔
کمیٹی کپاس کی فصل کی بحالی کے لیے 30 دن میں تجاویز دے گی، کمیٹی ارکان میں پی پی ایم این اے حسین طارق جاموٹ، لمز سے ڈاکٹر احسن رضا، سابق وزیر اور سابق چیئرمین پی اے آر سی شامل شامل ہیں۔
حج اور عمرہ زائرین کو ہنگامی طبی امداد دینے کیلئے اسکوٹر سروس کا آغاز
کپاس کے ماہر، ٹیکسٹائل صنعت اوراپٹما کےسابق چیئرمین بھی کمیٹی کا حصہ ہیں، سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے کپاس کے کاشتکار، محکمہ زراعت کے سیکریٹریز بھی شامل ہیں۔
وزارت قومی غذائی تحفظ کے سیکریٹری کمیٹی کے سیکریٹری کے طور پر کام کریں گے۔
خصوصی بحالی کپاس کمیٹی کا پہلا اجلاس 13 مارچ کو بلایا گیا ہے جس میں کمیٹی بین الاقوامی معیارات، آلودگی کے پیرامیٹرز کا جائزہ لے گی اور روئی کی گانٹھوں کی مناسب درجہ بندی، معیاری بنانے کے لیے سفارشات تیار ہوں گی۔
رمضان نگہبان پیکج؛ 10 لاکھ افراد میں پے آرڈرز تقسیم
کمیٹی ملک بھر میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے تکنیکی تجاویز بھی پیش کرے گی۔
کمیٹی کے ممبر حسین طارق نے کہا کہ ناموافق درآمدی پالیسیوں کی وجہ سے کپاس کی صنعت میں بحران ہے، موسمی حالات کی وجہ سے کپاس صنعت کو بحران کا سامنا ہے۔
ممبر کمیٹی نے کہا کہ 2011-12 میں 14 ملین کی پیداوار 6 ملین پر آگئی ہے، آئی ایم ایف کی وجہ سے کاٹن پر سپورٹ پرائس نہیں دی جاسکی، فصل کے سال 2024-25 کے لیے قومی پیداوار ملکی تاریخ کی دوسری کم ترین سطح پر آگئی۔
اداکارہ صحیفہ جبار سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان
انہوں نے کہا کہ سرکاری ہدف سے تقریباً 50 فیصد اور گزشتہ سال کی پیداوار سے 35 فیصد کم ہے۔
حسین طارق نے کہا کہ حکومت کی سال 2024-25 کی کاٹن پالیسی بھی سامنے نہ آسکی، رواں سیزن میں سندھ کی کپاس زیادہ، پنجاب کی کم ہوگئی۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نے کہا کہ کپاس کی کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :