Daily Mumtaz:
2026-07-24@04:01:24 GMT

مانچسٹر: بلوں کی ادائیگی کیلئے 200 پاؤنڈز کی امداد

اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT

مانچسٹر: بلوں کی ادائیگی کیلئے 200 پاؤنڈز کی امداد

برطانوی شہر مانچسٹر میں ایندھن کی کمی کا سامنا کرنے والے غریب شہریوں کی مدد کے لیے 1 چوتھائی ملین پاؤنڈز کے کلیمز کیے گئے ہیں۔

اس امداد کے اہل رہائشیوں کو درخواستیں جمع کرانے کی حتمی تاریخ 2024ء کے اختتام پر دی گئی تھی۔

کونسل نے ونٹر ہارڈ شپ فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا جس سے رہائشیوں کو اپنے توانائی کے اخراجات کو پورا کرنے میں مدد کے لیے 200 پاؤنڈز تک کا کلیم کرنے کے قابل بنایا گیا۔

کونسل نے اس فنڈ کے لیے اپنی مختص رقم کو مکمل طور پر استعمال کرتے ہوئے 2 لاکھ 63 ہزار پاؤنڈز کو 1000 سے زیادہ گھرانوں میں تقسیم کیا ہے۔

یہ اقدام رہائش کی لاگت کے بحران کے شدید اثرات کو کم کرنے کے لیے کونسل کی تازہ ترین کوشش کی نمائندگی کرتا ہے۔

گزشتہ 2 سال کے دوران کونسل نے مختلف پروگراموں میں لاکھوں پاؤنڈز کی سرمایہ کاری کی ہے جس کا مقصد اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کی مدد کرنا ہے۔

ان اقدامات میں اسکول جانے کی عمر کے بچوں کے لیے کھانا فراہم کرنے سے لے کر ایندھن کے بلوں میں سبسڈی دینا اور ڈیجیٹل وسائل تک رسائی کو بہتر بنانا شامل ہے۔

کونسل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور 2 سال گزرنے کے بعد بھی اس حوالے سے امداد دستیاب ہے۔

مانچسٹر سٹی کونسل کی تفصیلات کے مطابق آج تک کونسل نے کئی اہم سنگِ میل حاصل کیے ہیں، پچھلے 12 مہینوں میں چھٹیوں کے دوران 46 ہزار بچوں کو اسکول میں مفت کھانا فراہم کیا گیا، 2022ء سے کمیونٹی فوڈ بینکوں اور سپورٹ گروپس کے لیے 1 ملین پاؤنڈز سے زیادہ کی سپلائیز مختص کیں، اس کے علاوہ رہائشیوں کے لیے خوراک سے متعلق امداد پر 1 لاکھ 55ہزار پاؤنڈز اضافی خرچ کرنے کے علاوہ اکتوبر 2022ء سے کوسٹ آف لیونگ ایڈوائس لائن کے ذریعے تقریباً 14,000 افراد سے منسلک ہیں۔

2020ء سے اب تک 7,000 سے زیادہ سم کارڈز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ 2,000 سے زیادہ آلات بشمول فونز، لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز کو ان افراد میں تقسیم کیا گیا جنہیں ڈیجیٹل اخراج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تقریباً 1,200 رہائشیوں کو ان کی رہائش کو برقرار رکھنے میں مدد کرنے کے لیے 1.

9 ملین پاؤنڈز کی گرانٹ کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی گئی، 24-2023ء کے مالی سال میں اضافی 2,359 صوابدیدی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔

70 رضاکارانہ اور کمیونٹی تنظیموں کو 1 ملین پاؤنڈز کی گرانٹ فنڈنگ ​​جاری کی گئی جس نے پچھلے سال تقریباً 54,000 رہائشیوں کی اجتماعی مدد کی۔

چھٹیوں کے دوران بچوں کو مفت سرگرمیاں اور کھانا پیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہالی ڈے ایکٹیویٹی فنڈ، نصف مدت اور گرمیوں کے وقفوں کے دوران 24,000 سے زیادہ بچوں کی حاضری دیکھی گئی، اگرچہ کافی کام کرنا باقی ہے، کونسل کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ضرورت مندوں کے لیے مدد دستیاب ہے اور یہ مدد اکثر صرف ایک فون کال کی دوری پر ہوتی ہے۔

مانچسٹر سٹی کونسل لیڈر کونسلر بیو کریگ نے کہا ہے کہ ہمارے فنڈز کا ردعمل بہت زیادہ مثبت رہا ہے جو اس اقدام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، 2,000 سے زیادہ افراد کی مدد کرنے اور 2 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈز سے زیادہ خرچ کرنے کے باوجود میں ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں جنہوں نے ابھی تک ہم سے رابطہ نہیں کیا ہے کہ وہ ایسے فنڈز کے لیے دعویٰ کریں جو ان کے مالی بوجھ کو کافی حد تک کم کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کونسل کے طور پر ہم رہائشیوں کی مدد اور بحران کے منفی اثرات کو کم کرنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم رہے ہیں، ہماری سپورٹ دستیاب ہے۔

واضح رہے کہ ہارڈ شپ فنڈ کا دعویٰ کرنے کے لیے اہلیت کے معیار کا تقاضہ ہے کہ افراد کی عمر 23 ستمبر 2024ء تک 66 برس یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے اور انہیں محکمہ برائے کام اور پنشن (DWP) سے موسمِ سرما کے ایندھن کی ادائیگی نہیں ملے گی۔

درخواست دہندگان کو کونسل سے کونسل ٹیکس سپورٹ یا ہاؤسنگ بینیفٹ کی وصولی میں نہیں ہونا چاہیے، اگر افراد فائدہ حاصل کرتے ہیں اور 23 ستمبر 2024ء تک ان کی عمر 66 سال یا اس سے زیادہ ہے تو انہیں کونسل کی طرف سے خود بخود ادائیگی مل جائے گی اور درخواست فارم کو مکمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

درخواست دہندگان کو مانچسٹر سٹی کونسل کے دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے۔

افراد تصدیق کے لیے اپنا پوسٹ کوڈ چیک کر سکتے ہیں۔

ونٹر ہارڈ شپ فنڈ کے اخراجات کے لیے 80 سال سے کم عمر کے 1,268 گھرانوں کو کی گئی ادائیگیوں میں سے ہر ایک کو 150 پاؤنڈز دیے گئے جبکہ کُل 1 لاکھ 90 ہزار 200 پاؤنڈز ہیں۔

80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے 364 گھرانوں کو کی گئی ادائیگیوں میں ہر ایک کو 200 پاؤنڈز اور کل 72 ہزار 800 پاؤنڈز دیے گئے۔

مجموعی طور پر 1 ہزار 632 ادائیگیاں کی گئی ہیں جن کی رقم 2 لاکھ 63 ہزار پاؤنڈز ہے۔

18 نومبر 2024ء کو اسکیم کے آغاز سے لے کر 23 فروری 2025ء تک، کل 2 ہزار 294 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ملین پاؤنڈز ہزار پاؤنڈز کرنے کے لیے 000 سے زیادہ پاؤنڈز کی کے دوران کونسل نے کی مدد کی گئی

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ