وقف ترمیمی بل 2024ء کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے احتجاج کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
یہ احتجاج حکومت کے ہٹ دھرم رویہ اور کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے وقف املاک کو نقصان پہنچانے والا قانون نافذ کرنے کی کوشش کے خلاف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف 13 مارچ کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شریک تمام لوگوں سے مقررہ وقت پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ احتجاج صبح 10 بجے شروع ہوگا اور دوپہر 2 بجے ختم ہوگا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل رحیم مجددی نے شرکاء سے خاص طور پر ہولی کے تہوار کو ذہن میں رکھتے ہوئے وقت کی سختی سے پابندی کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ دہلی کے آس پاس سے آنے والے لوگ دن کی روشنی میں اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے چیئرمین نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مکمل طور پر پُرامن طریقے سے احتجاج میں شامل ہوں، نظم و ضبط اور ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرے کے دوران یا راستے میں نعرے بازی نہ کی جائے کیونکہ اسلام ہمیں ہر حال میں تحمل اور صبر کا درس دیتا ہے۔ یہ احتجاج حکومت کے ہٹ دھرم رویہ اور کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے وقف املاک کو نقصان پہنچانے والا قانون نافذ کرنے کی کوشش کے خلاف ہے۔ اس مظاہرے میں اپوزیشن جماعتوں اور دیگر برادریوں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ احتجاج مکمل طور پر جمہوری اقدار اور آئین کی طرف سے دی گئی آزادی اظہار کے دائرے میں ہوگا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر اور جنرل سکریٹری نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس احتجاج میں شامل ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ان کی مذہبی ذمہ داری اور برادری کے اتحاد کا منہ بولتا ثبوت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلم پرسنل لاء بورڈ یہ احتجاج کرنے کی کے خلاف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔