پشاور:

وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ سازی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اڑان پاکستان تمام صوبوں کے لیے ہے جس سے نوجوانوں کو نئی راہیں اور بہترین وسائل فراہم ہوں گے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو مالی اور دیگر شعبوں میں مدد فراہم کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اڑان پاکستان کی بہترین ورکشاپ کا انعقاد کیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔

وفاقی وزیر کہنا تھا کہ آئے روز آبادی بڑھ رہی ہے جبکہ صحت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں،   وفاقی حکومت ہیپاٹائٹس اور دیگر جاں لیوا امراض کی تشخیص اور ادویات کی فراہمی کے لیے تمام صوبائی حکومتوں کی مدد کررہی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کی بہتر معاشی پالیسوں کی وجہ سے افراط زر کی شرح 38 فیصد سے 4 فیصد پر آگئی ہے جبکہ شرح سود 23 سے 12 فیصد پر آگئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن پاکستان کی ترقی اور خوشحالی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹرین پر حملے اور معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنانے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ 

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کرے، کرپٹو کرنسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ  بینک جائزہ لے رہا ہے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ اڑان پاکستان میں تعلیمی نصاب پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، جبکہ کوشش ہے کہ شرح خواندگی 99 فیصد تک لے کر جائیں۔

 وزیرمنصوبہ بندی نے کہا کہ این ایف سی کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں اور این ایف سی میں گلگت بلتستان اور کشمیر کو بھی شامل  کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاست کی بیان بازی الگ ہوتی  ہے اور ریاست کے معملات الگ ہوتے ہیں۔

اس موقع مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر کے ساتھ صوبے اور ضم اضلاع کے شئیر کے حوالے سے بات چیت ہوئی جس کا مثبت رد عمل دیا گیا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ احسن اقبال وفاقی وزیر نے کہا کہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس