ن لیگ اور پی پی کے رابطے بحال، ہفتے کو کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
ن لیگ اور پی پی کے رابطے بحال، ہفتے کو کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس طلب WhatsAppFacebookTwitter 0 14 March, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان رابطے بحال ہو گئے۔ذرائع نے بتایا کہ پنجاب میں اتحادی حکومت کے معاملات، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا، اجلاس کل 15 مارچ بروز ہفتہ شام 4 بجے گورنر ہاس میں منعقد ہوگا۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شکوے دور کرنے کی کوشش کی جائے گی صوبائی اتھارٹیز میں نامزدگیاں، ترقیاتی فنڈذ، بیوروکریسی میں تبادلے پیپلز پارٹی کے مطالبات میں سے ہیں، اجلاس کی میزبانی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کریں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی، ندیم افضل چن اور قاسم گیلانی پیپلز پارٹی کی طرف سے شریک ہوں گے، مسلم لیگ ن کی طرف سے اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ خان مریم اورنگزیب اور سعد رفیق کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کوارڈینیشن کمیٹی
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔
اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔
کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔