پشاور میں کیش وین ڈکیتی کا ڈراپ سین، ماسٹر مائنڈ خود وین کا ڈرائیور نکلا، 4 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
پشاور کے علاقے نشتر آباد میں بینک کیش وین کو لوٹنے والے 4 ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
ایس ایس پی آپریشن مسعود بنگش نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نشتر آباد میں بینک وین کی ڈکیتی میں مرکزی ملزم اور ماسٹر مائنڈ خود وین کا ڈرائیور نکلا۔
انہوں نے کہا کہ کیس کو 24گھںٹوں سے پہلے ہی ٹریس کرلیا گیا جس کے لیے مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی اور جیو فینسنگ کی مدد لی گئی اور ملزمان تک رسائی ممکن ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: شادی سے بچنے کے لیے نوجوان نے خود کو گولی ماری، ڈکیتی واردات کے دوران فائرنگ کے واقعہ کا ڈراپ سین
ایس ایس پی نے کہا ہے کہ واردات میں ڈرائیور سمیت 4 ملزمان ملوث نکلے جنہیں گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزمان سے لوٹے گئے 3 کروڑ روپے بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کیش وین کا ڈرائیور پچھلے 6 ماہ سے اس جاب پر تھا تاہم ڈرائیور کی مکمل ویریفکیشن نہیں کی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
dacoit robbery ssp peshawar ایس ایس پی پشاور ڈکیتی کیش وین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی پشاور ڈکیتی کیش وین کیش وین
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک