کراچی : ڈمپر کی ٹکر، موٹرسائیکل سوار ایف آئی اے افسر جاں بحق،ڈرائیور گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) راشدی گوٹھ کے قریب ڈمپر نے موٹرسائیکل کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں اس پر سوار ایف آئی اے کا افسر جاں بحق ہوگیا۔کراچی کے علاقے راشدی گوٹھ میں یہ اندوہناک حادثہ پیش آیا جہاں ایک ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار کو روند ڈالا، حادثے کےنتیجے میں موٹر سائیکل سوار موقع ہی پر جاں بحق ہوگیا۔ملیر کینٹ پولیس کے ایس ایچ او آغا عبدالرشید نے بتایا کہ متوفی کی شناخت 38 سالہ محمد ایوب کے طور پر ہوئی جو ایف آئی اے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے طور پر تعینات تھے اور ایئرپورٹ پر ڈیوٹی دے رہے تھے۔
ایس ایچ او آغا عبدالرشید کے مطابق جب محمد ایوب ایک لنک روڈ سے نکلے تو ایک لاپرواہی سے چلائے جانے والے ڈمپر نے انہیں ٹکر مار کر کچل دیا۔ایس ایچ او کے مطابق، محد ایوب کے سر پر شدید چوٹیں آئیں جس کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ افسر نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا، تاہم حادثہ اتنا شدید تھا کہ ان کا سر کچل گیا۔لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) منتقل کر دیا گیا۔ واقعہ صبح 8 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا۔ ڈمپر کے ڈرائیور انور خان کو گرفتار کرکے ٹرک کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔