data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی میں تیز رفتار ڈمپرز اور گاڑیوں کی بے احتیاط ڈرائیونگ کے باعث ٹریفک حادثات کا سلسلہ نہ تھم سکا،  صبح ملیر کینٹ کے علاقے جناح ایونیو پر تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے ایف آئی اے کا افسر جاں بحق ہوگیا جب کہ شہید ملت ایکسپریس وے بلوچ کالونی پل پر مبینہ طور پر ریس کے دوران گاڑی کی ٹکر سے دو موٹرسائیکل سوار شدید زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کی حدود میں چیک پوسٹ نمبر 6 کے قریب تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں موقع پر ہی ایف آئی اے میں تعینات اے ایس آئی محمد ایوب خان جاں بحق ہوگئے، جاں بحق اہلکار ایئرپورٹ پر ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد گھر واپس جارہا تھا۔

ایس او ٹریفک چوکی ملیر کینٹ ارشد علی نے بتایا کہ حادثہ صبح تقریباً 8 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا، ڈمپر ایئرپورٹ سے مال خالی کرکے واپس آرہا تھا جب کہ حادثے کے وقت ٹریفک پولیس کی نفری موقع پر موجود تھی،  پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈمپر ڈرائیور انور خان کو گرفتار کرلیا جس کا ڈرائیونگ لائسنس بھی 16 اکتوبر کو ختم ہوچکا تھا۔

دوسری جانب فیروزآباد تھانے کی حدود میں شہید ملت ایکسپریس وے بلوچ کالونی پل پر تیز رفتار گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہوکر دو موٹرسائیکلوں سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو شہری شدید زخمی ہوگئے،  حادثے کے بعد گاڑی سڑک پر الٹ گئی جب کہ موقع پر موجود شہریوں کے مطابق حادثہ دو گاڑیوں کے درمیان ریس لگانے کے دوران پیش آیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار نوجوان ڈرائیور عبداللہ کو حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے، جب کہ زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں جدید ای چالان سسٹم کے باوجود تیز رفتاری اور ریس کلچر پر قابو نہیں پایا جاسکا، جس کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع روز کا معمول بن چکا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تیز رفتار ڈمپر ملیر کینٹ

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف