لاہور:

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پختونوں اور بلوچوں کو اعتماد میں لیے بغیر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کی کنجی پاک افغان تعلقات کی بحالی ہے۔

مرکزی شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے جاری علامیے کے مطابق حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر عوام کی مرضی کے خلاف حکمران مسلط کیے جائیں گے تو ملک میں اعتماد کا بحران پیدا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ عوام پر مسلط کرنے کی پالیسی ترک کرے اور عوامی رائے کا احترام کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کی امریکا نوازی نے ملک کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے 14 اپریل کو اسلام آباد میں ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

اسی سلسلے میں جماعت اسلامی 20 اپریل کو پشاور میں ایک امن مارچ کا انعقاد کرے گی تاکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے عوامی شعور بیدار کیا جا سکے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ عید کے بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنی ”حق دو عوام کو، بچاؤ پاکستان کو“ تحریک کے ذریعے پرامن سیاسی مزاحمت جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی حافظ نعیم انہوں نے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا