وقف ترمیمی بل پر بحث کیلئے مودی حکومت نے تمام اراکین پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
مسلم پرنسل لاء بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس نے بل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل فرقہ وارانہ خطوط پر پیش کیا گیا ہے، یہ مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مودی حکومت نے وقف ترمیمی بل پر بحث کے لئے بدھ کو تمام اراکین پارلیمنٹ کی میٹنگ طلب کی ہے۔ پارلیمنٹ کے کوآرڈینیشن روم نمبر 5 میں صبح 9:30 سے 10:30 بجے تک ہونے والی اس میٹنگ میں اراکین پارلیمنٹ کو وقف ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ حکومت بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے اس میں شامل دفعات کو واضح کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف ملک بھر میں وقف ترمیمی بل کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ آج 26 مارچ کو پٹنہ کے گارڈنی باغ میں احتجاج کا اہتمام کرے گا۔ اس کے بعد 29 مارچ کو وجئے واڑہ میں ایک اور احتجاج کیا جائے گا۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے علاوہ جمعیت علماء ہند اور جماعت اسلامی ہند سمیت مختلف مسلم تنظیمیں اس بل کی شدید مخالفت کر رہی ہیں۔ بھارت بھر کی ملی تنظموں کے اس بل کے التزامات پر شدید اعتراضات ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی منشا ٹھیک نہیں ہے، وہ وقف املاک پر قبضہ کرنا اور مسلم اداروں کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ ملی تنظیموں کا استدلال ہے کہ وقف ایکٹ میں نئی ترامیم وقف املاک کے انتظام میں بدانتظامی کا باعث بن سکتی ہیں اور یہ مسلمانوں کی خود مختاری کو کمزور کر سکتی ہیں۔
مسلم پرنسل لاء بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس نے بل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل فرقہ وارانہ خطوط پر پیش کیا گیا ہے، یہ مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بل کا جائزہ لینے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں کی تجاویز اور سوالات کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر کام کیا اور اپوزیشن کی تمام تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے وقف ترمیمی بل پر اپنی رپورٹ پیش کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔