کارساز ؛ خوفناک ٹریفک حادثے میں موٹر سائیکل سوار میاں بیوی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک : کراچی کے علاقے کارساز روڈ پر ہونے والے حادثے میں موٹر سائیکل سوار میاں اور بیوی جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق کار ساز پی اے ایف گیٹ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثہ ہوا، جہاں کار کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار میاں اور بیوی جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق مرد کی عمر 30 اور خاتون کی عمر 25 سال ہے۔
حادثے کے بعد موقع پر موجود شہریوں نے کار ڈرائیور کو پکڑ لیا، مشتعل شہریوں نے ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنایا، اسی دوران پولیس پہنچ گئی، جس کے بعد پولیس نے ڈرائیور کو تحویل میں لے لیا ۔
اہم ملک نے پاکستانی طلبہ کیلئے مفت تعلیم کےدروازے کھول دیے
حادثے میں جاں بحق میاں بیوی کی شناخت اقصیٰ اور ایاز کے نام سے ہوگئی، جو اللہ والا ٹاؤن کے رہائشی تھے، اور اس وقت ملازمت سے واپس آرہے تھے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ اقصیٰ نارتھ کراچی کے اسکول میں ٹیچر تھی، اور ایاز فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن نے ٹریفک حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام کو ٹریفک حادثات پر قابو پانے کی ہدایت کی، کہا کہ ٹریفک حادثات پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، ٹریفک حادثات پر کنٹرول کے لئے شہریوں کا تعاون ناگزیر ہے، شہری رفتاری سے گریز کریں۔
لاہور؛ عباس لائنز اور ایلیٹ ٹریننگ سکول کی عمارتیں ڈی سیل
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کار سوار کی جانب سے موٹر سائیکل سوار میاں بیوی کو ہٹ کیئے جانے کی اطلاع تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل سوار میاں
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔