پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلی خیبر پی کے علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ضلع مردان کے پہاڑی علاقے کاٹلنگ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران عام شہریوں کی شہادتوں کے افسوسناک واقعے کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی جائے گی تاکہ حقائق سامنے آئیں۔کاٹلنگ واقعے سے متعلق بیان دیتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد صوبائی حکومت واقعے سے متعلق اپنا واضح موقف دے گی۔ انہوں نے عام شہریوں کی شہادتوں کے واقعے کو قابل مذمت اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی علاقے میں پہلے بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں محسن باقر اور عباس جیسے بڑے دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق ہفتے کی صبح اسی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ صوبائی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام صوبے سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔ کاٹلنگ شموزو میں جاں بحق 9 افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہفتہ کی رات مبینہ ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے صوبائی حکومت

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ