بلوچستان: دشت مند میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ، کیپٹن سمیت 5 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ:۔ بلوچستان کے علاقے دشت مند میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کیپٹن سمیت 5 اہلکار شہید ہوگئے۔ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی۔
تفصیلات کے مطابق کیچ کی تحصیل دشت اور مند کے درمیان نامعلوم دہشت گردوں کی جانب سے سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آفیسر کیپٹن وقار اور ان کے دیگر 4 ساتھی نائیک جنید، نائیک عصمت، لانس نائیک خان محمد اور سپاہی ظہور شہید ہوگئے واقعہ کے بعد نعشوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراﺅ کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔ مزید کاروائی سیکورٹی فورسز کا عملہ کررہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تربت مند میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی دوران ڈیوٹی شہادت پر گہرے رنج ودکھ کا اظہار کیا ہے اپنے ایک مذمتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی درحقیقت دہشت اور وحشت پر مبنی ایک ذہنیت کا نام ہے جس کا مکمل خاتمہ لازمی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند کریں اور سوگوار خاندانوں کو صبر وہمت عطا فرمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں سیکورٹی فورسز
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک