پشاور:

تھانہ گرگری ضلع کرک پر رات گئے فتنۃ الخوارج کے 25 سے 30 دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنادیا گیا۔

پولیس نے تھانے کے قریب فتنہ الخوارج کی مشکوک نقل وحرکت بھانپتے ہی فائر کھول دیا جس کے باعث بزدل دہشتگرد منٹوں میں بھاگنے پر مجبور ہوگئے، دوران آپریشن نفری مکمل طور پر محفوظ رہی جبکہ حالات مکمل قابو میں ہیں۔

ڈی پی او کرک شہباز الہٰی کے مطابق تھانہ یعقوب شہید پولیس کی کارروائی میں بدنام زمانہ اشتہاری مجرم و ڈکیت گروہ کے سرغنہ شہباز عرف پنجابی کو جہنم واصل کردیا گیا۔

تھانہ یعقوب شہید کی حدود لمرکی قبرستان کے قریب انٹلیجنس بیسڈ کارروائی کی گئی جہاں ملزمان نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائر کھولا۔

دو طرفہ مقابلے کے بعد سرچ آپریشن میں ہلاک اشتہاری مجرم کی لاش برآمد ہوئی جسے سابقہ ریکارڈ سے شناخت کیا گیا۔

آر پی او کوہاٹ عباس مجید مروت کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں سمیت تمام جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کرک پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں، عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے کرک پولیس ہر دم تیار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار