میٹنگ میں اپوزیشن نے بل پر بحث کیلئے 12 گھنٹے کا وقت مانگا جبکہ مودی حکومت نے کم وقت رکھنے پر زور دیا، اس موضوع پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ نوک جھونک ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ وقف ترمیمی بل بدھ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ بی جے پی نے اپنے سبھی اراکین پارلیمنٹ سے کل ایوان میں موجود رہنے کے لئے کہا ہے۔ دوسری جانب بل کی مخالفت کررہی کانگریس نے بھی کمر کس رکھی ہے۔ کانگریس نے اپنے سبھی اراکین پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ کل پارلیمنٹ میں موجود رہیں۔ ساتھ ہی صبح 9:30 بجے راہل گاندھی کے ساتھ اراکین پارلیمنٹ کی بڑی میٹنگ ہوگی۔ اس میں بھی سبھی اراکین پارلیمنٹ کی موجودگی لازمی ہے۔ اس میٹنگ سے پہلے منگل کی شام 6 بجے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں کے فلور لیڈران کی میٹنگ ہوگی۔

ایوان میں بل آنے سے پہلے منگل کو پارلیمنٹ اسپیکر اوم برلا کی صدارت میں بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں اپوزیشن نے بل پر بحث کے لئے 12 گھنٹے کا وقت مانگا۔ جبکہ حکومت نے کم وقت رکھنے پر زور دیا۔ اس موضوع پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ نوک جھونک ہوئی۔ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر میٹنگ چھوڑ کر باہر آگئے۔ پارلیمنٹ میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے کہا کہ ہم میٹنگ سے باہر اس لئے آئے کیونکہ حکومت اپنا ایجنڈا تھوپ رہی ہے۔ اپوزیشن کو موقع ہی نہیں دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وقف ترمیمی ایکٹ پر جامع بحث کا مطالبہ کیا ہے، لیکن ہمارے خیالات کو نہیں سنا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ریاست منی پور میں صدر راج کے نفاذ کی تجویز کے لئے مناسب وقت مختص کرنے کی درخواست کی ہے، لیکن ہمارے مشورے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے قاعدہ 193 کے تحت ووٹر آئی ڈی اور انہیں آدھار کے ساتھ لنک کرنے کے فیصلے کے بارے میں بھی بحث طلب کی ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس کا مطالبہ کیا ہے لیکن اس پر غور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی اے سی کی میٹنگ میں برسر اقتدار پارٹی کی ہٹ دھرمی دکھائی دے رہی ہے، اپوزیشن کو کوئی جگہ نہیں دی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ کہا کہ ہم انہوں نے

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے خراب صحت کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کی عمر 76 برس ہے اور وہ اپریل 2023 سے ملک کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ اور خاندان سے منسلک 6.2 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط کر لیے

صدر کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد شہاب الدین نے حالیہ طبی معائنے کے بعد بتایا کہ انہیں آٹونومک نیوروپیتھی نامی بیماری لاحق ہے جس کے باعث انہیں بعض اوقات اچانک مختصر وقت کے لیے بے ہوشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے باعث وہ آئینی منصب کی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر ہوں گے

بیان کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک جاتیا سنگسد (قومی پارلیمنٹ) کے اسپیکر صدر کی آئینی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں لکھا کہ جسمانی اور ذہنی صحت مسلسل متاثر ہونے کے باعث وہ صدر جیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں مزید نبھانے کے قابل نہیں رہے۔

شیخ حسینہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے

محمد شہاب الدین جنہیں عام طور پر ’چپو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے سنہ 2023 میں پارلیمنٹ کے ذریعے اس وقت صدر منتخب ہوئے تھے جب سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ اقتدار میں تھی۔

مزید پڑھیے: پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

تاہم  سنہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ حکومت کا خاتمہ ہوا اور وہ بھارت منتقل ہو گئیں، جس کے بعد صدر شہاب الدین پر بھی مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا۔

فون پر رابطے کے الزامات

رواں سال مئی میں لندن میں زیر علاج ہونے کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، تاہم صدر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

عوامی لیگ پر پابندی برقرار

محمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد شیخ حسینہ کا اعلیٰ ریاستی عہدوں پر موجود ایک اور اہم اتحادی بھی منظر سے ہٹ گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے جبکہ سال 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد پارٹی کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع