مودی کی مسلم دشمنی، وقف املاک سے متعلق متنازع بل اسمبلی میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
کانگریس سمیت مودی کی اتحادی جماعتوں نے بھی بل کی شدید مخالفت کی ہے
تمام مسلم جماعتوں نے بل پاس ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی مہم کا اعلان
مودی سرکار نے بھارت میں مسلمانوں کو آئینی اور قانونی طور پر حاصل مذہبی آزادی پر ایک اور قدغن لگانے کی تیاری کرلی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکومتی رکن نے بل لوک سبھا میں وقف املاک سے متعلق ترمیمی بل پیش کیا ہے ۔ بل میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے تاکہ املاک پر قبضے ، وراثت اور دیگر معاملات میں ابہام کو دور کیا جاسکے ۔تاہم مسلمان رہنماؤں اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے شدید الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے اس بل کو مسلمانوں کی وقف املاک ہڑپنے کی حکومتی سازش قرار دیا۔بل پر بی جے پی کی اتحادی جماعتوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مرکزی حکومت سے فوری طور پر بل واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔مسلم رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے کہا کہ اکثریت کے نام پر مودی سرکار اقلیتوں کے حقوق سلب نہیں کر سکتی۔اس بل کی مخالفت کرنے والوں میں لوک سبھا میں تیسری بڑی جماعت سماج وادی پارٹی، ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، کشمیر کی نیشنل کانفرنس، این سی پی (شرد پوار)، لالو پرساد کی آر جے ڈی، ڈی ایم کے اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔ان تمام جماعتوں نے بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اپنے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ اس بل پر متحدہ اپوزیشن کے حق اور حکومت کے خلاف ووٹ کاسٹ کریں۔دریں اثنا بھارت کی تقریباً تمام ہی مسلم جماعتوں نے بل پاس ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔