اگر ایران امریکا جوہری مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم ہوگا، فرانس کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
پیرس: فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہو گئے تو خطے میں فوجی تصادم تقریباً ناگزیر ہو جائے گا۔
پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے بارو نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایران کے معاملے پر ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش جاری رکھے گا تو امریکہ اس پر بمباری کرے گا۔ دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ بھی بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
بارو نے کہا کہ فرانس کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری اولین ترجیح ایک ایسے معاہدے پر پہنچنا ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل اور قابل تصدیق طریقے سے محدود کرے۔"
فرانسیسی وزیر خارجہ کے اس بیان کے دوران، امریکی صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایران پر دوبارہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" (Maximum Pressure) کی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس میں اقتصادی پابندیاں اور دیگر سخت اقدامات شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔