نہریں نکالنے کا مسئلہ حل ہونا چاہے، سیاستدانوں کو جماعتوں سے بالاتر ہوکر سوچنا ہوگا، چوہدری شافع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
وزیر صنعت و تجارت پنجاب چوہدری شافع حسین نے کہا ہے کہ دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا مسئلہ حل ہونا چاہے، سیاستدانوں کو اپنی جماعتوں سے بالاتر ہو کر ملک کیلئے سوچنا ہوگا۔
ظہور پیلس گجرات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا مسئلہ حل ہونا چاہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اس مسئلے کے حل کیلئے ان کیمرہ اجلاس کی تجویز دی ہے، اُمید ہے اس مسئلہ کو جلد حل کر لیاجائیگا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے نہیں ہو جاتا، نہروں پر چھوٹے ڈیم بنانے چاہئیں، چھوٹے ڈیمزسے 30میگا واٹ تک بجلی بھی حاصل کی جا سکتی ہے، وفاقی حکومت دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کیلئے سخت اقدامات کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک گوادر کی ترقی نہیں چاہتے اس لیے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، بلوچستان میں امن کیلئے چوہدری شجاعت حسین ماضی کی طرح اب بھی کردا ر ادا کر سکتے ہیں۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہمسایہ ممالک کیساتھ بیٹھ کر بات کی جانی چاہئے، جعفر ایکسپریس اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں بے گناہ شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو شہید کرنیوالوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اکٹھا ہونا ہوگا، سیاستدانوں کو اپنی جماعتوں سے بالاتر ہو کر ملک کیلئے سوچنا ہوگا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کو بھی دہشت گردی کی روک تھام کیلئے ہونیوالے اجلاس میں شرکت کرنی چاہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اُن دس ممالک میں شامل ہو جائے جہاں امن و امان کی صورتحال مثالی ہے، حکومت کی درست معاشی پالیسیوں کے باعث ملک اقتصادی طور پر بہتری کی طرف جارہا ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کے فیصلوں کے بعد دوبارہ اقتصادی معاملات میں رکاوٹیں آسکتی ہیں، البتہ مولانا فضل الرحمن کا تحریک انصاف کیساتھ چلنا مشکل نظر آرہا ہے
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف چاہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے قرضوں سے جان چھڑالی جائے تب ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے، عوام کی بہتری کیلئے پنجاب حکومت دن رات محنت کر رہی ہے نئے پراجیکٹس لائے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے نے کہا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں