پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے مجید بریگیڈ جیسے مسلح گروہوں کو جدید ہتھیاروں کے خفیہ بہاؤ کو روکنے کے لیے مربوط کوششوں پر زور دیا ہے، جو پاکستان کے اندر مہلک حملے کرنے کے لیے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں استعمال کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق سیرالیون کی جانب سے بلائے گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب سید عاطف رضا نے کہا کہ دہشتگرد مسلح گروہوں کے پاس افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے غیر قانونی ہتھیار موجود ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس طرح کے ہتھیار کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشتگرد شہریوں اور پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف تشدد میں استعمال کر رہے ہیں۔ سید عاطف رضا نے بھارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دہشتگرد تنظیموں کو ہمارے بنیادی دشمن سے بیرونی حمایت اور مالی اعانت بھی ملتی ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: سابق افسران سے سرکاری گاڑیوں کی واپسی کے لیے کریک ڈاؤن شروع

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ لاوارث ہتھیاروں کے وسیع ذخیرے کو بازیاب کرائیں، مسلح دہشتگرد گروہوں تک ان کی رسائی کو روکیں اور غیر قانونی ہتھیاروں کی اس پھلتی پھولتی بلیک مارکیٹ کو بند کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

سید عاطف رضا نے کہا کہ چھوٹے ہتھیاروں اور ہلکے ہتھیاروں کے غلط استعمال اور غیر قانونی بہاؤ سے تنازعات میں اضافہ ہوتا ہے، سماجی و اقتصادی ترقی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور امن و سلامتی کو نقصان پہنچتا ہے۔ غیر قانونی ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی ترسیل اور قومی سرحدوں کے پار سرگرم غیر قانونی مسلح گروہوں کے پاس جدید ہتھیاروں تک رسائی سے ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان بلوچ لبریشن آرمی پاکستان ٹی ٹی پی کالعدم تحریک طالبان پاکستان مجید بریگیڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان بلوچ لبریشن آرمی پاکستان ٹی ٹی پی کالعدم تحریک طالبان پاکستان مجید بریگیڈ ٹی ٹی پی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار