مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو کل کوئٹہ کی جانب مارچ کریں گے:اخترمینگل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
مستونگ(ڈیلی پاکستان آن لائن )بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی) مینگل گروپ کا سردار اختر مینگل کی سربراہی میں مستونگ میں لک پاس پر دھرنا 9 ویں روز بھی جاری رہا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق حکومتی وفد اور اختر مینگل کے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی۔ سردار اختر مینگل سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے رابطہ کیا۔ اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو میں سردار اختر مینگل کا کہناتھاکہ ہم نے اپنا مطالبہ ایاز صادق کے سامنے رکھ دیا اور ایاز صادق نے وزیراعظم کے سامنے معاملہ اٹھانے کی یقین دھانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین ارکان اسمبلی میرے پاس آئی تھیں، خواتین ارکان کے سامنے گرفتار خواتین کی رہائی کا مطالبہ رکھا ہے۔ان کا کہناتھاکہ مطالبہ تسلیم نہیں کیاجاتا تو کل کوئٹہ کی جانب پرامن مارچ کریں گے۔
دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کا کہنا ہے کہ بی این پی کو کوئٹہ کے ریڈ زون میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آج کوئٹہ میں چار روز سے معطل موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونے کے بعد دوبارہ بند کردی گئی۔
ا±دھر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال مستونگ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ میڈیکل سرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کے مطابق ایمرجنسی 6 اپریل سے 8 اپریل تک نافذ رہے گی جس کے باعث ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکس اوردیگرسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔
کرپشن تحقیقات: اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سواتی کو عہدے سے ہٹائے جانے کا مکان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اختر مینگل
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔