ریلوے کا ڈی جی خان تا ملتان 16 اپریل سے شٹل ٹرین چلانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
تفصیلات کے مطابق شٹل ٹرین 227Dn ملتان سے صبح 5 بجکر 30 منٹ پر روانہ ہو کر شیر شاہ، مظفرگڑھ، کوٹ ادو سے ہوتی ہوئی صبح 9 بجکر 30 منٹ پر ڈیرہ غازی خان پہنچے گی۔ جبکہ 228Dn ڈیرہ غازی خان سے دن 11 بجے روانہ ہو کر اسی روٹ سے ہوتی ہوئی دوپہر 2 بجکر 50 منٹ پرملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن پہنچا کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ ریلوے انتظامیہ نے عوام کی سہولت کے پیش نظر ملتان، ڈیرہ غازی خان کے درمیان (227Dn/228Up) کے نام سے 16 اپریل 2025ء سے شٹل ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شٹل ٹرین 227Dn ملتان سے صبح 5 بجکر 30 منٹ پر روانہ ہو کر شیر شاہ، مظفرگڑھ، کوٹ ادو سے ہوتی ہوئی صبح 9 بجکر 30 منٹ پر ڈیرہ غازی خان پہنچے گی۔ جبکہ 228Dn ڈیرہ غازی خان سے دن 11 بجے روانہ ہو کر اسی روٹ سے ہوتی ہوئی دوپہر 2 بجکر 50 منٹ پرملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن پہنچا کرے گی۔ ٹرین 4 اکانومی کلاس کوچز اور ایک بریک وین پر مشتمل ہوگی، ریلوے انتظامیہ نے کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے کوئٹہ کے درمیان چلنے والی 3Up بولان میل کے اوقات کارمیں 27 اپریل 2025ء سے تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈیرہ غازی خان سے ہوتی ہوئی روانہ ہو کر شٹل ٹرین
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔