دہشتگردی عالمی چیلنج ہے، دنیا پاکستان کیساتھ تعاون کرے: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی چیلنج ہے، دنیا کو پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے امریکی کانگریس مینز کے وفد نے ملاقات کی، وفد میں کانگریس مینز جیک برگمین، ٹام سوزی اور جوناتھن جیکسن شامل تھے۔
اس موقع پر وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری، قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔
ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے پر بھی گفتگو کی گئی، سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور بارڈر سیکیورٹی کے شعبوں پر بات چیت کی گئی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کو پاکستان کے خلاف اکسایا جارہا ہے۔
وزیرِ داخلہ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا سے پائیدار تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، امریکا میں 30 اپریل کو پاکستان کاکس کا انعقاد خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے شعبے میں انٹیلیجنس اور ٹیکنالوجی شیئرنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے، پاکستان دہشت گردی اور دنیا کے درمیان دیوار کی حیثیت رکھتا ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی اقوام عالم میں نظیر نہیں ملتی، امریکی کانگریس مینز کا دورہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے بے مثال کردار کو اجاگر کرنے سے متعلق انتہائی اہم ثابت ہو گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ امریکی وفد کے حالیہ منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025ء میں شرکت خوش آئند ہے، حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت اور ان کی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مشترکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈائیلاگ، انسدادِ دہشت گردی سے متعلق باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
امریکی کانگریس مینز نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی باصلاحیت اور قابل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: داخلہ محسن نقوی امریکی کانگریس کانگریس مینز دہشت گردی کے پاکستان کے کو پاکستان نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔