انٹرویو کیلئے جلدی پہنچنے پر ملازمت کا امیدوار مسترد
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
اٹلانٹا (نیوز ڈیسک)وقت کی پابندی کو اکثر ایک خوبی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر جب بات ملازمت کیلئے انٹرویو کی ہو۔تاہم LinkedIn پر ایک حالیہ وائرل پوسٹ نے ایک آن لائن بحث کو جنم دیا ہے جب ایک کاروباری مالک نے دعویٰ کیا کہ اس نے انٹرویو کے لیے بہت جلد پہنچنے والے ایک امیدوار کو نوکری دینے سے انکار کردیا۔
اٹلانٹا میں مقیم ایک کلیننگ سروسز فراہم کرنے والی کمپنی کے مالک میتھیو پریوٹ نے LinkedIn پر اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آفس ایڈمنسٹریٹر کی جگہ کے لیے ایک امیدوار مقررہ وقت سے 25 منٹ پہلے پہنچ گیا-
میتھیو نے بتایا کہ درخواست دہندہ کی یہ حرکت اسے ملازمت نہ دینے کے فیصلے میں ایک اہم عنصر تھا۔
میتھیو نے کہا کہ میں نے گزشتہ ہفتے ایک امیدوار کو انٹرویو کے لیے بلایا اور وہ 25 منٹ قبل پہنچ گیا۔ یہ ایک اہم فیصلہ کن عنصر تھا کہ میں نے اسے کیوں نہیں رکھا۔
مالک نے بتایا کہ وجہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ تھوڑا جلدی پہنچنا عام طور پر اچھا سمجھا جاتا ہے لیکن وقت سے بہت پہلے آنا ناقص ٹائم مینجمنٹ یا سماجی بیداری کی کمی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بہت جلد آنا یہ تجویز کر سکتا ہے کہ کوئی شخص وقت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔
کمپنی کے مالک نے اس بات پر زور دیا کہ امیدوار کا انٹرویو سے پانچ دس منٹ پہلے پہنچنا سمجھ آتا ہے لیکن اس سے آگے کی کوئی بھی چیز غیر سنجیدہ ہو سکتی ہے۔
پنجاب میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا عمل تیز، ہزاروں ڈی پورٹ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔