واشنگٹن کو بانی پی ٹی آئی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، سینئر وزیر
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
مسلم لیگ (ن) حکومت کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ توقعات کے برعکس بانی پی ٹی آئی کو کم ازکم فی الحال واشنگٹن سے ریلیف ملنے کا امکان نہیں۔
بانی پی ٹی آئی کے حامی اس امید پر کئی ماہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیتے رہے کہ امریکی انتظامیہ کی تبدیلی کے بعد وائٹ ہاؤس سے ایک کال ان کے رہنما کی قسمت بدل دے گی۔
تاہم ن لیگ کے نئی امریکی انتظامیہ کیساتھ حالیہ سفارتی رابطوں سے لگتا ہے کہ ان کی توقعات مبالغہ آرائی کے علاوہ کچھ نہ تھیں۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی نے اپنی جماعت میں خود دراڑیں ڈالیں، عامر الیاس رانا
نام ظاہر نہ کرنے پر مسلم لیگ ن کے سینئر وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی امریکی ترجیحات کی فہرست میں ہی شامل نہیں ہیں۔ سینئر وزیر کے دوٹوک ریمارکس ن لیگ کے موڈ کے علاوہ پی ٹی آئی کی توقعات ٹھنڈی ہونے کی عکاسی کرتے ہیں۔
سینئر وزیر نے انکشاف کیا کہ امریکی حکام نے حالیہ رابطوں کے پاکستانی ہم منصبوں سے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سوشل میڈیا مہم کی پرواہ نہ کریں، امریکی سرکاری حلقوں میں اس حوالے سے کسی تشویش کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے
انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کیساتھ حالیہ رابطوں میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ انہیں بانی پی ٹی آئی میں کوئی دلچسپی نہیں، نہ سوشل میڈیا پر جاری مہم کی پرواہ ہے، وہ پاکستان کے داخلی امور میں عدم مداخلت کے موقف پر قائم ہیں۔
اس کے باوجود افواہ سازی کی سلسلہ جاری ہے، 10 اپریل کو امریکی وفد کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا بھی دعویٰ کیا گیا، جسے سینیٹر عرفان صدیقی نے افواہ قرار دیکر مسترد کر دیا۔
ادھر پی ٹی آئی کی مقتدرہ حلقوں سے بات چیت شروع کرنے کی کوششوں میں بھی خاص پیش رفت نہیں ہوئی، اس کے باوجود سوشل میڈیا پر بانی کی جلد رہائی یا بڑی سیاسی تبدیلی کی پیش گوئیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سوشل میڈیا
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔