قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے عمر ایوب کے تمام الزامات رد کردیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
عمر ایوب - فوٹو: فائل
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمر ایوب کے تمام الزامات رد کردیے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اعداد و شمار کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کو جوابی خط لکھ دیا۔
انہوں نے بتایا کہ خط میں پارلیمنٹ میں وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹسز پر کارروائی کی تفصیلات فراہم کردی ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب کو ایک مہینے کی حفاظتی ضمانت دے دی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹس مسترد کرنے کا ریکارڈ بھی وجوہات کے ساتھ عوام کی آگاہی کےلیے جاری کردیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی ترجمان کے مطابق قواعد پر پورا نہ اترنے والے حکومتی اراکین کو بھی 320 سوالات کی اجازت نہیں دی گئی، اپوزیشن اراکین کے 127 سوالات بھی قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اترتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد مواقع پر احتجاج کی وجہ سے اپوزیشن اراکین ایوان میں موجود نہ تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی عمر ایوب
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :