ایران سے 8 پاکستانیوں کی میتیں بہاولپور منتقل کر دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
حکومت پاکستان کی خصوصی ہدایت پر پاک فضائیہ کے ایک C-130 طیارے نے ایران کے شہر زاہدان سے 8 پاکستانی شہریوں کی میتوں کو بہاولپور پہنچادیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے صوبے سیستان میں فائرنگ، 8 پاکستانی شہری جاں بحق
آئی ایس پی کے مطابق 8 پاکستانی ایران کے علاقے سیستان میں دہشتگرد حملے کا نشانہ بنے تھے۔ میتوں کو ضروری میڈیکو لیگل عمل کی تکمیل کے بعد پاکستانی قونصل جنرل کے حوالے کیا گیا تھا۔
ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے افراد ضلع بہاولپور کے رہنے والے تھے اور وہ ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں ایک گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کا شکار ہوئے۔
میتوں کے بہاولپور ایئرپورٹ پہنچنے پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سول اور فوجی حکام نے شرکت کی اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی۔
مزید پڑھیے: ایران میں 9 افراد کا قتل: پاکستان کا جرم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی پر زور
ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دکھ کی اس گھڑی میں قوم کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے قیمتی پاکستانی جانوں کے المناک نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لیے اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی طاقت، صبر اور استقامت کی دعا کی۔
مزید پڑھیں: پنجگور میں دہشتگردوں کے ہاتھوں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7 مزدوروں کا سفاکانہ قتل
یاد رہے کہ ایران کے علاقے سیستان میں 12 اپریل کو قتل کیے گئے محنت کشوں کا تعلق بہالپور کے نواحی علاقےخانقاہ شریف اور احمد پور شرقیہ سے تھا۔ محمد عامر، محمد دلشاد، محمد ناصر، ملک جمشید، محمد دانش، محمد نعیم، غلام جعفر اور محمد خالد موٹر مکینک تھے اور ایک ورکشاپ میں کام کرتے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس پی آر ایران ایران میں پاکستانی مزدوروں کا قتل پاکستان پاکستانی مزدوروں کی میتیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر ایران ایران میں پاکستانی مزدوروں کا قتل پاکستان پاکستانی مزدوروں کی میتیں ایران کے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔