وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت بلیو اکانومی کے بے پناہ وسائل کو قومی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔

2 روزہ انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس کا آغاز کراچی ایکسپو سینٹر میں ہوا، جو پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے ساتھ بیک وقت منعقد کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: بلیو اکانومی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کا آغاز، 44 ممالک شریک

یہ کانفرنس پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام اور وزارتِ بحری امور کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں پالیسی ساز، بحری اور صنعتی امور کے ماہرین اور بین الاقوامی تجزیہ کار شرکت کر رہے ہیں تاکہ عالمی بحری امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان کی اقتصادی بحالی اور پائیدار ترقی میں بحری شعبے کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔

وزیر خزانہ و محصولات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلیو اکانومی کے بے پناہ وسائل کو قومی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کو فروغ دینے، بندرگاہی ڈھانچے کی جدید کاری اور علاقائی بحری تجارت کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی معاشی خود مختاری کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

اس سے قبل ریئر ایڈمرل جاوید اقبال (ر) نے مہمانوں اور مندوبین کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے ایسے فورمز کی اہمیت پر روشنی ڈالی جو حکومت کو میری ٹائم پالیسیوں کی تشکیل اور حکمتِ عملی کی منصوبہ بندی میں قیمتی مشورے فراہم کرتے ہیں۔

کانفرنس کے پہلے روز سینیئر نیول افسران، اسکالرز اور میری ٹائم ماہرین نے ’پائیدار ترقی کے لیے بلیواکانومی کے وسائل سے استفادہ‘ کے موضوع پر مدلل تقاریر اور تحقیقی مقالے پیش کیے۔

ان سیشنز میں بحری سلامتی، سمندری وسائل کے مؤثر استعمال، تکنیکی جدت اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

دو روزہ یہ کانفرنس مختلف موضوعاتی نشستوں، ماہر پینلز اور پالیسی سے متعلق مباحثوں پر مشتمل ہوگی، جن کا مقصد علاقائی میری ٹائم تعاون کو فروغ دینا، اقتصادی روابط کو مستحکم کرنا اور بحری وسائل کے پائیدار استعمال کے ذریعے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میری ٹائم شعبے میں ترقی کا سب سے پہلے فائدہ ساحلی آبادیوں کو پہنچنا چاہیے، وفاقی وزیر احسن اقبال

اس موقع پر دوست ممالک، تعلیمی وتحقیقی اداروں اور بحری صنعت سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں مندوبین شریک ہیں، جو پاکستان کے علاقائی میری ٹائم تعاون کے مرکز کے طور پر ابھرتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’بلیو اکانومی‘ wenews محمد اورنگزیب میری ٹائم کانفرنس وزیر خزانہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلیو اکانومی محمد اورنگزیب میری ٹائم کانفرنس وی نیوز بلیو اکانومی اکانومی کے میری ٹائم ترقی کے کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ