فوڈ چین پر حملہ اچھی بات نہیں، فساد برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل 2025ء ) پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ فوڈ چین پر حملہ اچھی بات نہیں ہے، غزہ سے یکجہتی کے نام پر ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ترقی کرتے پنجاب پر تشدد پسند گروہ حملے کر رہے ہیں، فلسطینیوں سے یکجہتی کے نام پر کاروبارکو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا پاکستان میں پیش آنے والے واقعات سے غزہ کے لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے؟ ملک بھر میں فوڈ چینز میں 25 ہزار پاکستانی کام کرتے ہیں، ان فوڈ چینز پر حملوں میں زخمی ہونے والے بھی پاکستانی ہیں اور جاں بحق ہونے والا بھی پاکستانی ہے، غزہ اور فلسطین کے نام پر آگ لگانے کی کوشش کرنے والے یقیناً نہ پاکستانی ہیں اور نہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پاکستان میں امن اچھا نہیں لگتا جنہیں پاکستان میں سرمایہ کاری آتی ہوئی اچھی نہیں لگتی، انہیں پاکستان کی ترقی اچھی نہیں لگتی۔
(جاری ہے)
عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ غزہ اور فلسطین کے نام پر شرپسندی کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ بھی ملوث ہوسکتا ہے جو پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرناچاہتا ہے، فلسطینی اور غزہ سے تعلق رکھنے والے ہمارے مظلوم بہن بھائی شہادتیں دے رہے ہیں، ان کے بچے اور عورتیں شہید ہورہی ہیں، وہ تو اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں، کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہیں وہ کسی کو مارنے کی بات نہیں کرتے، انہوں نے تو بندوقیں نہیں اٹھائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام تو امن و آتشی کا مذہب ہے جو غیر مسلموں کی بھی زندگی اور جان و مال کے تحفظ کا ضامن ہے اور یہاں پر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو غزہ کے نام پر مارنے کی کوشش کرے تو یہ ناقابل برداشت ہے، یہ فوڈ چینز فرنچائزز ہیں جنہیں پاکستانیوں نے خریدا ہوا ہے اور ان میں پاکستانی ہی کام کرتے ہیں اور روزگار کماتے ہیں، اگر یہ 25 ہزار پاکستانی بیروزگار ہوجائیں گے تو غزہ کے مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوگا؟۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے وارننگ دی کہ قطعی طور پر کسی کو بھی مذہب، یکجہتی یا سیاسی دہشت گردی کے نام پر امن و امان کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، فلسطینیوں سے یکجہتی کے نام پر منصوبہ بندی کے ساتھ صرف پنجاب میں حملے ہو رہے ہیں، یکجہتی کے نام پر کسی کا کاروبار بند کرنا یا کسی کی جان لینا کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے اور اس پر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ صوبے میں اب تک 149 شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 14 مقدمات درج کیے ہیں، لاہور میں 3 مقدمات میں 11 ملزمان گرفتار ہیں، شیخوپورہ میں ایک شخص کی شہادت پر ایک مقدمہ درج کیا گیا جس میں 71 ملزمان گرفتار ہیں، گوجرانوالہ میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں 8 ملزمان گرفتار ہیں، راولپنڈی میں 3 مقدمات درج کرکے 33 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، ملتان میں ایک مقدمے میں 11ملزمان گرفتار ہیں، ساہیوال میں ایک مقدمے میں 6 ملزمان گرفتار ہیں، بہالپور میں 2 مقدمات میں 7 ملزمان گرفتار، رحیم یار خان میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں 2 ملزمان گرفتار ہیں اسی طرح فیصل آباد میں بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت ساری مذہبی سیاسی جماعتیں اس حوالے سے ریلیاں اور پرامن احتجاج کررہی ہیں ان پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، ہم بھی ان میں شامل ہیں، غزہ اور لبنان کے معاملے پر حکومت پاکستان عملی اقدامات کررہا ہے، وزیراعظم نے 8 قسطوں میں امدادی سامان غزہ بھجوایا ہے اور ایک قسط حال ہی میں بھیجی گئی ہے، او آئی سی اور عرب لیگ سمیت تمام عالمی فورمز پر وزیراعظم نے بہت مضبوطی سے غزہ کا مقدمہ لڑا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایک مقدمہ درج کیا گیا ملزمان گرفتار ہیں یکجہتی کے نام پر کیا گیا ہے کرتے ہیں میں ایک کی کوشش ہے اور
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔