وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں 9.38 فیصد اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستانی معیشت کیلئے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے اور جولائی 2024ء سے مارچ 2025ء کے دوران برآمدات میں 9.38 فیصد اضافے کے ساتھ 13.613 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔اس نمایاں کارکردگی پر وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور نجی شعبے کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صرف مارچ 2025 میں برآمدات میں 6.

27 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ نہ صرف حکومتی معاشی پالیسیوں کی درست سمت کا ثبوت ہے بلکہ پاکستانی معیشت کی مضبوطی اور عالمی منڈیوں میں مصنوعات کی مانگ میں اضافے کا بھی مظہر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں بتدریج اضافہ اور دیگر مثبت معاشی اعشاریے، حکومت پاکستان اور نجی شعبے کے درمیان قریبی تعاون اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ایسے تمام اقدامات جاری رکھے گی جو کاروبار دوست ماحول پیدا کریں اور برآمدات میں مسلسل بہتری لائی جا سکے۔وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت ملکی برآمدات کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے نہ صرف پالیسی سازی کر رہی ہے بلکہ کاروباری برادری کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے کیلئے بھی پرعزم ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہماری ٹیم دن رات اس کوشش میں ہے کہ پاکستان کو اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے تاکہ روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات تینوں میں توازن کے ساتھ اضافہ ہو۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شہباز شریف نے برآمدات میں

پڑھیں:

رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔

ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اس کے ساتھ ہی جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی گھٹا کر 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔

حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا خاتمہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
  • بڑھتا ٹیکسٹائل فضلہ: یو اے ای میں استعمال شدہ کپڑوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف