اسلام آباد:چائنا میڈیا گروپ کے اشتراک سے نیشنل لائبریری آف پاکستان میں ایک اہم سیمینار بعنوان “مشترکہ خواب، مشترکہ ترقی: جدیدیت کے دس برسوں کا سفر” منعقد ہوا، جس میں پاکستان اور چین کے درمیان گزشتہ ایک دہائی پر محیط جدیدیت، ترقی، اور دوستی کے سفر کا جائزہ پیش کیا گیا۔پیر کے روزتقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ، قیصر احمد شیخ تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کا دس سال قبل دورہ پاکستان، دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین – پاکستان اقتصادی راہداری نے گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے ثمرات ناصرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں۔وزیر مملکت برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حذیفہ رحمان نے ورچوئل خطاب میں کہا کہ دس سال قبل پاکستان ایک معاشی بحران سے گزر رہا تھا، ایسے میں صدر شی جن پھنگ کا سی پیک جیسا تحفہ پاکستان کے لیے معاشی سہارا ثابت ہوا، جس سے دونوں ممالک کی دوستی کو نئی جِلا ملی۔رکن قومی اسمبلی و وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن صبحین غوری نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین ہر موسم کے ساتھی ہیں، اور صدر شی جن پھنگ کے دورۂ پاکستان نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔چین میں پاکستان کے سابق سفیر اور سینئر سفارت کار سردار مسعود خان نے اپنے خصوصی پیغام میں چین اور پاکستان کے مابین جاری اقتصادی و سفارتی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کے دورہ پاکستان کے ثمرات خاص طور پر پاکستان کے انفراسٹرکچر اور توانائی بحران کے خاتمے میں نمایاں نظر آتے ہیں۔سیمینار میں تھینک ٹینکس، ماہرین تعلیم، اساتذہ، طلبہ، محققین، اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب “چین، آج اور کل” کے مصنف شاہد افراز خان کی کاوشوں کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا، جو چین کی ترقی، پالیسیوں اور اشتراک کار پر گراں قدر تحقیق پر مبنی ہے۔میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد میں شرکت اس امر کا ثبوت تھی کہ پاکستان اور چین کے درمیان قائم شراکت داری اور ترقی کا یہ سفر عوامی و ادارہ جاتی سطح پر وسیع دلچسپی کا حامل ہے۔یہ سیمینار نہ صرف گزشتہ دہائی کی کامیابیوں کا اعتراف تھا بلکہ مستقبل میں چین – پاکستان تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی مظہر تھا۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: صدر شی جن پھنگ پاکستان کے کہا کہ

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار