تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں نئی تنظیم سازی کے لئے طریقہ کار اور گائیڈ لائنز جاری کردی گئیں۔

اعلامیہ کے حوالے سے بتایا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی تنظیم نو کیلئے طریقہ کار و گائیڈ لائنزجاری کی گئی ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے پی کے طریقہ کار کے مطابق ضلعی تنظیموں میں 9 مئی واقعات کے بعد اور گزشتہ عام انتخابات کے دوران فعال کارکنان کو پارٹی تنظیموں میں شامل کرنے کے لئے ترجیح دی جائے گی جبکہ 9 مئی کے واقعات کے بعد غیرفعال رہنے والے کارکنان اور سرکاری عہدہ رکھنے والوں کو بھی پارٹی تنظیموں میں شامل نہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف کی تنظیمیں بنانے کے لئے پینل تشکیل دیے جائیں ، پارٹی کے ریجنل صدور اور جنرل سیکرٹریز ضلعی سطح پر پینل تیار کریں گے، تنظیموں میں نااہل ،غیرفعال اور متنازع رہنما شامل نہیں ہوں گے۔

ریجن کے عہدیداروں کی تقرری 29 اپریل ، ضلعی عہدیداروں کی 9 مئی جبکہ تحصیل عہدیداروں کی تقرری 23 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی تنظیموں کی حتمی منظوری کا اختیار صرف پارٹی کے صوبائی صدرکو حاصل ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری

افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

طالبان رجیم کے خلاف بغاوت   کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے  حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا  ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔

عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔  طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ