عہدہ سے ہٹانے کے فیصلہ کیخلاف چیئرمین پی ٹی اے نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی اے نے انٹرا کورٹ اپیل آرڈیننس 1972ء کے تحت دائر کی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپیل کنندہ پی ٹی اے کے موجودہ چیئرمین ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے کو پہلے 24 مئی 2023ء کو پی ٹی اے میں ممبر (انتظامیہ) مقرر کیا گیا تھا، 25 مئی 2023ء کو انہیں چیئرمین پی ٹی اے کے طور پر تعینات کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پی ٹی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کی۔ چیئرمین پی ٹی اے نے انٹرا کورٹ اپیل آرڈیننس 1972ء کے تحت دائر کی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپیل کنندہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے موجودہ چیئرمین ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے کو پہلے 24 مئی 2023ء کو پی ٹی اے میں ممبر (انتظامیہ) مقرر کیا گیا تھا، 25 مئی 2023ء کو انہیں چیئرمین پی ٹی اے کے طور پر تعینات کیا گیا۔
چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان قوانین اور ضوابط کے مطابق اپنے کام انجام دے رہے ہیں، یہ اپیل چیئرمین پی ٹی اے کی قانونی تعیناتی کو ثابت کرنے کیلئے دائر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے آج ایک محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ دیا تھا۔ اپیل کنندہ چیئرمین پی ٹی اے نے عدالت سے اپیل فوری سماعت کیلئے مقرر کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی اے نے پی ٹی اے نے ا مئی 2023ء کو دائر کی کیا گیا
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔