راولپنڈی کی عدالت میں قتل کا ملزم اور پولیس کانسٹیبل فائرنگ سے زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
راولپنڈی کی عدالت میں پیشی پر آیا قتل کا ملزم اور پولیس کانسٹیبل فائرنگ سے زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی کی ٹیکسلا کچہری کے احاطے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں پیشی پر آئے ملزم قدیر سمیت پولیس کانسٹیبل عابد زخمی ہوگئے، پولیس نے فائرنگ کرنے والے کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق کانسٹیبل عابد نے جان پر کھیلتے ہوئے پیشی پر آئے ہوئے ملزم کو بچانے کی کوشش کی اس دوران کانسٹیبل عابد کو بھی گولی لگی، دونوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ٹیکسلا پولیس کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والے کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس کی شناخت امین شاہ کے نام سے ہوئی ہے، واقعہ دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ بتایا جارہا ہے، پولیس نے موقع سے شواہد جمع کرلیے۔
پولیس کے مطابق ملزم قدیر کو 2019ء کے قتل اور ضرر کے مقدمہ میں پیشی کے لئے عدالت لایا گیا تھا۔
فائرنگ کے واقعہ پر سی پی او سید خالد ہمدانی نے نوٹس لے لیا اور ایس پی پوٹھوہار کو فوری انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔