نتیش کمار نے کہا کہ میں بی جے پی حکومت کو بھی چیلنج کرتا ہوں کہ اگر وہ پہلگام حملے کو ملک میں فرقہ پرستی پھیلانے کیلئے استعمال کرتی ہے تو جے این یو اسکے خلاف کھڑی ہوگی اور انہیں تباہ کر دیگی۔ اسلام ٹائمز۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) طلباء یونین کے انتخابات میں صدارتی مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔ صدر کے عہدہ کے لئے صدارتی بحث شروع ہونے سے پہلے اے بی وی پی اور اے آئی ایس اے کے درمیان جموں و کشمیر کے پہلگام کے دہشت گردانہ واقعہ اور فلسطین مسئلہ پر پوسٹر فلیگ کا تنازع دیکھا گیا۔ ساتھ ہی باپسا BAPSA اور این ایس یو آئی کے حامیوں پر جھگڑے اور ایک دوسرے کو دھکا دینے کا بھی الزام لگایا گیا۔ اس سب کے درمیان رات تقریباً 12.

30 بجے بحث شروع ہوئی۔ تمام مقررین کو بولنے کے لئے 10 منٹ کا وقت دیا گیا، شروع میں تین مقررین نے اپنے خیالات پیش کئے۔

بحث کے دوران اے بی وی پی کے مرکزی پینل کی صدارتی امیدوار اور اے بی وی پی جے این یو یونٹ کی وزیر شیکھا سوراج نے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بات کی۔ اس تناظر میں انہوں نے تند و تیز سوال اٹھایا کہ جب کچھ لوگ یہ نہیں مانتے کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب ہوتا ہے تو وہ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ حملہ آوروں کا مذہب اور شناخت کیا تھی۔ اس دوران یونائیٹڈ لیفٹ پینل سے AISA کے صدارتی امیدوار نتیش کمار نے پہلگام میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کشمیری عوام کے جذبے کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جو مصیبت زدہ عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے۔

نتیش کمار نے کہا کہ میں بی جے پی حکومت کو بھی چیلنج کرتا ہوں کہ اگر وہ پہلگام حملے کو ملک میں فرقہ پرستی پھیلانے کے لئے استعمال کرتی ہے تو جے این یو اس کے خلاف کھڑی ہوگی اور انہیں تباہ کر دے گی۔ اپنی تقریر میں نتیش کمار نے کہا کہ ملک میں فاشزم کی انتہا پسندی کا دور جاری ہے۔ وقف ترمیمی بل لا کر مسلمانوں کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ سی اے اے این آر سی لا کر شہریت پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نتیش کمار نے فلسطین میں مارے جانے والے معصوم شہریوں کا ذکر کیا اور تشدد کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نتیش کمار نے نے کہا کہ جے این یو

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان

لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔

حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔

کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟

پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے

الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔

رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔

کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟

حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔

دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔

مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار

ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔

کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔

انتخابی مہم عروج پر

آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔

ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟

اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن

متعلقہ مضامین

  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت