قومی ایئرلائن کی خریدار کمپنی پہلے سے بہت زیادہ فائدے میں رہے گی، معاون خصوصی برائے نجکاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نجکاری محمد علی نےکہا ہے کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ نہیں ہوگی، اس سلسلے میں کسی بھی حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں ہو رہی۔ قومی ایئرلائن کی خریدار کمپنی پہلے سے بہت زیادہ فائدے میں رہے گی۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ ایئرلائن کی نجکاری میں کوئی صوبائی حکومت بھی حصہ نہیں لے سکتی، قومی ایئرلائن کی نجکاری رواں سال کی آخری سہ ماہی میں کر دی جائے گی، ایئرلائن کے 6900 ملازمین کا مستقبل محفوظ ہے، قومی ایئرلائن کی خریدار کمپنی پہلے سے بہت زیادہ فائدے میں رہے گی۔
محمد علی نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری سے قبل لندن کا روٹ بھی بحال کرلیں گے، ایئرلائن کئی ماہ سے منافع میں ہے، اسے خریدنے والوں کو 80 فیصد سے زیادہ حصص بھی دے سکتے ہیں، ایئرلائن خریدنے والے کو اگلے پانچ سال تک ٹیکس کی رعایتوں کا فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایئرلائن کی بولی دینے والوں کو حسابات کی جانچ پڑتال کے لیے 60 دن کا وقت دیں گے، بولی دہندہ کمپنی کا 2 سال میں 200 ارب روپے اور پچھلے تین سال کے دوران مسلسل سالانہ پہلے 100 ارب کا ریونیو ہونا ضروری ہے، بولی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کے پاس 30 ارب روپے کا لیکوڈ کیش ہونا بھی ضروری ہے، بولی دہندہ کمپنی کے آڈٹ انٹرنیشنل یا اسٹیٹ بینک کی منظور شدہ آڈٹ فرم سے ہونا ضروری ہے۔
مشیر برائے نجکاری نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری کی شرائط میں ترمیم کی گئی ہے، سرمایہ کاروں کے تمام مطالبات کو تسلیم کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی ایئرلائن کی نجکاری نے کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔