جنید جمشید کی کمپنی بک گئی، کیا نام رہے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کے مقابلہ کمیشن (CCP) نے جنید جمشید (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے یو اینڈ آئی گارمنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ انضمام کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔
یو اینڈ آئی اور جنید جمشید پرائیویٹ لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر انضمام کی درخواست دائر کی تھی، جس میں یو اینڈ آئی کے ذریعے تمام کاروبار کے حصول کے لیے شیئر سوئپ کے ذریعے منظوری طلب کی گئی تھی۔
اس معاہدے کی تکمیل کے بعد جنید جمشید ایک علیحدہ ادارے کے طور پر ختم ہو جائے گا اور اس کے تمام آپریشنز، اثاثے اور واجبات یو اینڈ آئی گارمنٹس میں مکمل طور پر ضم ہو جائیں گے۔
کمیشن نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا یہ انضمام کسی متعلقہ مارکیٹوں، جیسے تیار شدہ ملبوسات، جوتے، لوازمات، خوشبوئیں اور کاسمیٹکس میں غالب پوزیشن پیدا کرے گا یا مضبوط کرے گا۔
پاکستان کے مقابلہ کمیشن کے مطابق، یہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک انٹرا گروپ کنسولیڈیشن ہے کیونکہ یو اینڈ آئی پہلے ہی جنید جمشید میں 25 فیصد حصص کا مالک ہے۔
اس معاہدے سے کسی بھی متعلقہ مارکیٹ میں مسابقتی مسائل پیدا نہیں ہوں گے کیونکہ اس میں محدود ہوریزنٹل اوورلیپ ہیں، داخلے کی رکاوٹیں کم ہیں اور مارکیٹ میں متعدد حریف موجود ہیں۔
مزیدپڑھیں:پرائم منسٹر یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم؛ سٹوڈنٹس کیلئے اہم خبر
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: یو اینڈ آئی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔