محمد راشد جی ایم سے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ روڈن انکلیو پرموشن پر صدر آئی سی سی آئی کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
محمد راشد جی ایم سے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ روڈن انکلیو پرموشن پر صدر آئی سی سی آئی کی مبارکباد WhatsAppFacebookTwitter 0 25 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) روڈن انکلیو کے محمد راشد کو مبارکباد دینے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے پریزیڈنٹ ناصر قریشی پہنچ گئے ،محمد راشد جی ایم سے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ بننے پر وائٹ روز بحریا فیز سیون مارکیٹ میں بہت بڑی دعوت رکھی گئی، چیئرمین روڈن انکلیو رحیم الدین نعیم کی طرف سے جس کے چیف گیسٹ ناصر قریشی اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے پریزیڈنٹ تھے ناصر قریشی کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ ڈاکٹر کے پاس چلے گئے لیکن انہوں نے جو وعدہ کیا تھا روڈر انکلیو سے وہ انہوں نے پورا کر دکھایا بیماری کی حالت میں بھی یہاں پر پہنچ گئے۔
،مارکی میں ناصر قریشی نے اپنا وعدہ پورا کر کے اسلام آباد چیمبر اف کامرس کا فخر سے سر بلند کر دیا، محمد راشد ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ کا کہنا ہے کہ ہم پریزیڈنٹ ناصر قریشی صاحب چیمبر آف کامرس اسلام آباد ان کا پوری ٹیم کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ اتنی تکلیف کے باوجود بھی ہمارے روڈن انکلیو میں تشریف لانے پر روڈن انکلیو کے کنٹری ہیڈ ملک اسد عباس نے بھی ان کا بہت تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ناصر قریشی صاحب کا روڈن انکلیو کے جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے بھی ناصر قریشی کا شکریہ ادا کیا اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے پریزیڈنٹ ناصر قریشی اپنی تقریر کے دوران راشد صاحب کا شکریہ ادا کیا اور انہوں نے اپنی تقریر کے دوران بولا ہماری اسلام اباد چیمبر اف کامرس کے 30ممبران ہیں میں ان سب کی طرف سے محمد راشد روڈن انکلیو ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ ان کو بننے پر ساری ٹیم کی طرف سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس جب بھی روڈن انکلیو کو ہماری ضرورت پڑی ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جس طریقے سے محمد راشد نے محنت کر کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ کی کی پرموشن ہوئی ہم اس پر خیراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ناصر قریشی برینڈ ابیسٹر روڈرن انکلیو محمد اشتیاق کیانی کا کہنا ہے کہ ہم ناصر قریشی کا بڑا مشکور ہیں کہ یہ ایک ایک منٹ کے بعد ہمارے ساتھ رابطے میں تھے اور جب ہاسپٹل میں بیٹھے تھے اس وقت بھی انہوں نے ہم سے رابطہ کیا اور اتنی تکلیف ہونے کے باوجود بھی انہوں نے روڈن انکلیو میں آکے اور اپنا وعدہ پورا کر کے چیمبر اف کامرس اسلام آباد کا نام فخر سے بلند کر دیا اور ہم اپنی پوری ٹیم کی طرف سے ناصر قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہیں محمد اشتیاق کیانی برانڈ ایمبیسڈر روڈن انکلیو روڈن انکلیو کے سی ای او نعیم نے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ محمد راشد کو مبارکباد دی اور یہ بولا کہ ہماری ادارہ روڈن انکلیو کا وہ چمکتا ہیرا ہے محمد راشد کے جس کی کوئی بھی قیمت نہیں یہ ایک انمول ہیرا ہے جس نے روڈن انکلیو کا ہر پلیٹ فارم پر فخر سے سر بلند کر دیا اور ہمارے اس ادارے روڈن انکلیو کو ان پر فخر ہے کہ اللہ کا شکر ہے ہمیں اتنا نایاب ہیرا اور ہمیں اتنا سچا اور ایماندار اور دیانت دار ورکر ملا ۔سی ای او رحم الدین نعیم روڈن انکلیو نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ روڈن انکلیو سوسائٹی پاکستان کی ایک بہترین سوسائٹی ہوگی جس میں ہر قسم کی سہولیاتموجودہوںگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراگر بھارت جنگ کرتا ہے تو اس کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی: سابق بھارتی جج اگر بھارت جنگ کرتا ہے تو اس کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی: سابق بھارتی جج پاکستان دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے؛ جنگ میں نقصان ہمارا ہوگا؛ بھارتی جنرل کا مودی کو مشورہ مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 1.92فیصد کی مزید کمی، سالانہ شرح منفی3.52فیصد ہوگئی شام بھی اسرائیل کیساتھ تعلقات کی بحالی کیلیے تیار؛ امریکی رکن کانگریس کا دعوی پوپ کا غزہ پر موقف، کوئی اعلی اسرائیلی عہدیدار آخری رسومات میں شریک نہیں ہو گا پہلگام واقعہ: بھارتی پولیس اسٹیشن میں دائر ایف آئی آر سے مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: روڈن انکلیو
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)