پاکستان اپنے پانی کے تحفظ کیلئے جوہری ہتھیار استعمال کرسکتا ہے، تجزیہ کاروں نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ دریاؤں کے پانی میں کسی قسم کی مداخلت کو جنگ کی کارروائی سمجھا جائے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جس میں مکمل قومی طاقت کا استعمال بھی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام سیاسی نوعیت کا ہے اور معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔ سابق پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس معاہدہ جماعت علی شاہ نے کہا ہے کہ یہ ایک مستقل معاہدہ ہے اور اس میں کوئی تبدیلی دونوں ممالک کی باہمی رضامندی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔
سندھ حکومت نے یکم مئی کو عام تعطیل کا اعلان کردیا
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا موڑنے کی کوشش کی تو پاکستان فوجی کارروائی کرے گا، جس میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کے لیے ایک اہم قومی مفاد ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جائے گی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔